کلبرگی ،3؍ مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک پولیس نے ضلع کلبرگی کے الند ٹاؤن میں دو فرقوں میں جھڑپ کے سلسلہ میں 60 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے اور چہارشنبہ کے دن 150 افراد کو پوچھ تاچھ کے لئے تحویل میں لے لیا ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق مہا شیوراتری(یکم مارچ) کو کرفیو کے احکام کے باوجود الند میں بڑے پیمانہ پر تشدد برپا ہوا تھا۔ پولیس نے شہر میں امتناعی احکامات میں 5 مارچ تک توسیع کردی تاکہ نظم وضبط بحال ہو۔ صورتِ حال ہنوزکشیدہ ہے۔ وسیع سیکوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیس‘ حالات خراب کرنے والے شرپسندوں کی تلاش میں ہے۔
ہجوم نے مرکزی مملکتی وزیر فرٹیلائزر بھگونت کھوبا‘ مقامی ارکان اسمبلی اور بی جے پی قائدین کی گاڑیوں پر سنگباری کی تھی۔ پتھراؤ میں ضلع کمشنر کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ تشدد اس وقت پھوٹ پڑا جب درگاہ لاڈلے مشائخ کے احاطہ میں واقع راگھو چیتنیہ شیولنگ کا گنگا بھیشیک ہورہا تھا۔
دونوں گروپس میں جھڑپ ہوگئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے۔ فرقہ وارانہ لحاظ سے حساس کلبرگی کے الند د شہر کی صورت ِ حال لاڈلے مشائخ کی درگاہ کے احاطہ میں واقع ایشور مندر میں گزشتہ ہفتہ شیولنگ کی بے حرمتی کے واقعہ پر صورتِ حال سنگین ہوگئی۔ ایشور مندر اور درگاہ عرصہ سے ہندو۔ مسلم اتحاد کی علامت رہے ہیں۔
شیوراتری کے موقع پر مندر میں خصوصی پوجا ہوئی تھی۔ اُسی دن لاڈلے مشائخ کی درگاہ میں شب ِ معراج ؐ کا اہتمام ہوا۔ کلبرگی پولیس نے سری رام سینا کے بانی پرمود متالک‘ ہندو کارکن چائتراکونڈاپورا اور سدالنگا سوامی کا کلبرگی ضلع میں داخلہ 3 مارچ تک ممنوع کردیا۔ ہندو تنظیموں نے ضلع انتظامیہ کے اس فیصلہ پر تنقید کی ہے۔
چائتراکونڈاپورا کو احکامات کی خلاف ورزی اور ضلع میں داخل ہونے کی کوشش پر شاہ آباد پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پرمود متالک نے کہا ہے کہ ضلع کمشنر کلبرگی ہندو مخالف موقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس کلبرگی یشونت گروکر نے کہا کہ صورت ِ حال قابو میں ہے۔